15 مارچ 2015 - 17:35
مذاکرات میں طے پانے والے سمجھوتے کے لیے سلامتی کونسل کی تائید ضروری

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے کسی بھی سمجھوتے کی، سلامتی کونسل کی جانب سے تائید ضروری ہے۔

ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان طے پانے والے کسی بھی سمجھوتے کی، سلامتی کونسل کی جانب سے تائید ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ سمجھوتے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تائید کے بعد، تمام ممالک پر بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر اس پر عمل کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جوہری مذاکرات کے، گذشتہ دو ادوار میں کسی حد پیشرفت ہوئی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ مذاکرات کے نئے دور میں بھی پیشرفت ہوگی۔ ایران کے نائب وزیرخارجہ اور اعلی جوہری مذاکرات کار عباس عراقچی نے ایران اور امریکہ کے درمیان دو جانبہ ملاقات اور پیر کے روز ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف اور یورپی فریقوں کے حکام کے درمیان بریسلز میں ہونے والی ملاقاتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ منگل کے روز سے لوزان میں دو جانبہ اور چند جانبہ سطح پر مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جائےگا- انھوں نے کہا کہ اس دوران فریقین کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کو، کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عباس عراقچی نے پابندیوں کے خاتمے کے بارے میں کہا کہ پابندیوں کا مسئلہ، مذاکرات کا اہم موضوع ہے اور ہم نے تاکید کی ہے کہ کسی ایک مسئلے میں کوئی مفاہمت نہیں مگر یہ کہ تمام مسائل میں مفاہمت پیدا کی جائے۔ عباس عراقچی نے کہا کہ ہم سمجھوتے کو ایک ایسے پیکج کی حیثیت سے دیکھتے ہیں کہ جس میں تمام چیزوں کے بارے میں ان کی تمام تر جزییات کے ساتھ مفاہمت ہونی چاہیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲